کوہاٹ حملہ: افغان حکومت محض مذمت کے بجائے ٹھوس کارروائی کرے: وزارت اطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض شفاہی ہمدردی کے بجائے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور پناہ گاہوں کے خلاف ٹھوس، قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔

سوشل میڈیا پر جاری باضابطہ بیان میں وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ کوہاٹ حملے میں افغانستان میں جڑیں رکھنے والے عناصر ملوث ہیں اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ہماری قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کے دھمکی آمیز بیان اور الزامات کو رد کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان مذاکرات کی آڑ میں اپنے شہریوں کی جانوں کا سودا کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری و عوام کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے تحت ہر ضروری اقدام کا حق رکھتا ہے۔

وزارت نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر خطے میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرے۔

واضح رہے کہ کوہاٹ حملے میں شہادتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔