نیویارک: اقوام متحدہ کی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے درمیان روابط اور تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تعلقات انتہائی مضبوط ہوئے ہیں۔ القاعدہ کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کو حکمت عملی، عسکری تربیت، لاجسٹک اور پروپیگنڈا صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھرپور مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کا یہ تعاون صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں بلکہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور اتحاد المجاہدین پاکستان جیسے عسکری گروہوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں القاعدہ برصغیر انہیں عملی معاونت اور تربیت دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان نے ان عسکریت پسند گروہوں کو افغانستان میں نہ صرف پناہ گاہیں اور مالی وظائف دیے ہیں بلکہ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور ایغور جنگجوؤں (ترکستان اسلامک پارٹی) کو مقامی شناختی کارڈز بھی جاری کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں تنظیموں کی عملی حکمت عملی میں کچھ فرق موجود ہے، تاہم نظریاتی ہم آہنگی اور ‘سروس پرووائیڈر’ کے طور پر القاعدہ کی موجودگی خطے بالخصوص پاکستان کے امن و امان کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

