پاک سعودیہ دفاعی تعاون جاری ہے، پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے اپنی پہلی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ ایک خالصتاً دفاعی اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں ڈیٹرنس کے ذریعے سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ فی الوقت اس معاہدے میں کسی نئے ملک کو شامل کرنے کی تجاویز زیرِ غور نہیں ہیں اور تینوں بانی ممالک پہلے اس کے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

دفترِ خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاعِ خود اختیاری کے حق کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو قطعی بے بنیاد قرار دیا جس میں پاکستان کی جانب سے ایران کو انتباہ جاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارتی اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔

پاکستان نے اترپردیش کے شہر سہارنپور میں 125 سالہ تاریخی مسجد کی مسماری سمیت بھارت میں ہندوتوا پالیسیوں اور اسلامی ورثے کی تباہی کی بھی سخت مذمت کی۔

افغان طلبہ سے متعلق خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ درست ویزا اور یونیورسٹی رجسٹریشن رکھنے والے افغان طلبہ پر کوئی پابندی نہیں، تاہم صرف غیر رجسٹرڈ یا ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔