مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانیہ اور فرانس سمیت 12 ممالک کی پابندیاں
لندن: برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اسپین اور ناروے سمیت دنیا کے 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات اور ان سے تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کا مشترکہ اعلان کر دیا ہے۔
ان ممالک جن میں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، پولینڈ، پرتگال اور سویڈن بھی شامل ہیں، کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند آباد کاروں کا تشدد اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور وہاں فلسطینیوں کی ‘نسلی تطہیر’ کی جا رہی ہے، لہٰذا برطانیہ اب صرف آواز اٹھانے کے بجائے عملی اقدام کے تحت 6 سے 9 ماہ میں بستیوں کی مصنوعات اور ان کی توسیع میں مددگار کمپنیوں پر مکمل پابندی کا نظام متعارف کرائے گا۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی سوشل میڈیا پر تجارت ختم کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
برطانیہ کے اس سخت اقدام پر اسرائیل نے شدید اور تند و تیز ردِعمل دیتے ہوئے برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدیون ساعر نے برطانوی حکومت پر اسرائیل مخالف پالیسی کا الزام عائد کرتے ہوئے جیریمی کوربن اور ڈائین ایبٹ سمیت 11 برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی صدر نے اس عالمی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسی کسی پابندی کی پیروی نہیں کرے گا۔

