اسلام آباد: وزیر مملکت برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کی شرعی اصولوں کے مطابق تنظیم کاری کے لیے ایک ‘شریعہ ایڈوائزری بورڈ’ قائم کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی وی اے آر اے نے بتایا کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کے لین دین کے شرعی پہلوؤں پر مفتی اعظم پاکستان کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور ان کی رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ اس جدید معاشی شعبے کو اسلامی اصولوں اور ملکی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اتھارٹی نے ابتدائی 6 ماہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان میں اس شعبے کے اندر 4 کروڑ صارفین کی گنجائش موجود ہے۔
بلال بن ثاقب نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل ترسیلاتِ زر کا نیا نظام متعارف کرانے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے رقم بھیجنے کے اخراجات 6.5 فیصد سے کم ہو کر 1 فیصد تک آ جائیں گے۔
اس اقدام سے پاکستانیوں کو سالانہ تقریباً 41 کروڑ ڈالر کی بڑی بچت ہوگی۔ واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی اور اسٹیبل کوائنز پر مختلف دینی آراء کے پیشِ نظر اتھارٹی علمائے کرام، ریگولیٹرز اور صنعتی ماہرین کی باقاعدہ مشاورت سے ایک شفّاف اور باضابطہ فریم ورک کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے۔

