اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ترجمان دفترِ خارجہ نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں پر کیے گئے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یمن سے حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان میں شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔
اس شدید حملے پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کا امن و استحکام تباہ کر سکتی ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت سعودی عرب کو اپنے شہریوں، اقامتی رہائشیوں اور قومی اثاثوں کی حفاظت کے لیے دفاعی اقدامات کا پورا حق حاصل ہے۔
دفترِ خارجہ نے متنبہ کیا کہ حوثی ملیشیا کے یہ حملے یمن کے مسئلے کو پرامن اور پائیدار طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

