پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی دعوے مسترد کر دیے

اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوؤں اور یکطرفہ نقشوں کو ایک بار پھر یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کا غیر قانونی قبضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آفیشل نقشے ہی اس خطے کی قانونی حیثیت کے مستند عکاس ہیں اور اس تنازع کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ و غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینے پر مجبور کرے۔

دوسری جانب، پاکستان نے بھارتی شہر سہارنپور میں 5 ستمبر کو صدیوں پرانی تاریخی مسجد کو شہید کیے جانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اسے اسلاموفوبیا اور ہندوتوا پر مبنی مہم کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اسلامی ورثے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھارتی مسلمانوں اور ان کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔