نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی بدعنوانی، پیپر لیکس اور بے روزگاری کے خلاف ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کی قیادت میں جاری طلبہ احتجاج پر پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج کے خلاف بالی ووڈ اور ساؤتھ فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات کا شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر تشدد اور آنسو گیس کے استعمال نے ملک بھر سمیت شوبز انڈسٹری کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سینئر اداکار پرکاش راج نے خاموش رہنے والے فنکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ غلطی کرنے والوں کو معاف کر سکتی ہے لیکن خاموش رہنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے پولیس اہلکاروں کا موازنہ امریکی آئی سی ای (ICE) ایجنٹوں سے کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جاہل حکمران پورے ملک کو جاہل بنانا چاہتے ہیں۔
علاوہ ازیں، بالی ووڈ سپرسٹار سلمان خان بھی طلبہ کی حمایت میں سامنے آ گئے اور انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کا معاملہ سنگین ہے اور طلبہ کی یہ تحریک ایک درست اقدام ہے جسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
احتجاج میں یکجہتی کے اظہار کے لیے پہنچی فلم ‘دھرندھر’ سے شہرت پانے والی اداکارہ عائشہ خان کو ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ مارچ میں اداکار عمران خان، ہما قریشی، ان کے بھائی ساقب سلیم اور اسٹینڈ اپ کامیڈینز نے بھی شرکت کی۔
دوسری جانب، بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے پولیس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس نے ارکانِ پارلیمنٹ کو حملے اور ہجوم سے محفوظ رکھا۔
واضح رہے کہ یہ احتجاج جنتر منتر اور مختلف شہروں میں مسلسل جاری ہے جہاں طلبہ کے ساتھ متعدد معروف شخصیات، فنکار اور پاکستانی ریپر طلحہ انجم بھی مظاہرین کی ہمت اور ثابت قدمی کی حمایت کر رہے ہیں۔

