ایران کے ساتھ تفصیلی مذاکرات جاری ہیں، ناکامی پر سخت فوجی کارروائی کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ انتہائی اہم اور تفصیلی مذاکرات جاری ہیں، تاہم واضح کیا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا دوبارہ بڑے پیمانے پر سخت فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

میڈیا اور اسرائیلی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ثالثوں کی درخواست پر جمعے کے روز سے ایران پر فضائی حملے روک کر سفارت کاری کو ایک موقع دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور معاملے پر زیادہ وقت نہیں ہے؛ یا تو پیش رفت تیزی سے ہو گی یا پھر بالکل نہیں ہو گی۔ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں امریکا بلا تاخیر وسیع پیمانے کے عسکری آپریشن کی طرف لوٹ جائے گا۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی دعوؤں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی اور جنگ یا امن کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکا مذاکرات کی میز پر آ جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ہر ملک کا مسلمہ حق ہے اور ایران کسی بھی دھمکی کے تحت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔