ایران کے خلاف جنگ میں شدت سے امریکی میزائل ذخائر ختم ہو سکتے ہیں؛ امریکی جنرل نے ٹرمپ کو خبردار کر دیا
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان 13 روز سے جاری شدید جنگ اور فضائی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری کا سلسلہ عارضی طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پینٹاگون حکام اور نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ کو مزید وسعت دینے کے تباہ کن نتائج پر شدید تحفظات ظاہر کیے تھے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے، لیکن اس سے امریکی فوج بالخصوص سینٹرل کمان (CENTCOM) کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔ سینیئر حکام کے مطابق، امریکی حملے الٹا ایرانی قوم کو اندر سے متحد کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق بمباری روکنے کا ایک مقصد عمانی وفد کے دورہِ تہران اور سفارتی بات چیت کو موقع دینا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہر چیز تباہ کرنے کا اپشن بھی موجود ہے مگر ڈیل کرنا سب سے ذہین اسٹریٹجی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکا کے خلاف جوابی حملے عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تب تک خاموش رہیں گے جب تک امریکی حملے رکے رہیں گے، لیکن اس وقفے کو حقیقی سیز فائر کے بجائے حکمتِ عملی کے تحت دیکھا جا رہا ہے اور ایران کا موقف اب بھی "حملے کے جواب میں حملہ” ہی رہے گا۔

