مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کی نادر دریافت؛ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے نام والا قدیم سنگی کتبہ اور 1700 سے زائد آثارِ قدیمہ برآمد
مدینہ منورہ: سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے علاقے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل پر اسلامی تاریخ کی ایک نہایت اہم اور نایاب دریافت کا اعلان کیا ہے۔
کمیشن کے مطابق، اس مرحلے میں مجموعی طور پر 1774 اہم تاریخی نوادرات اور مقامات دریافت ہوئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام والا ایک قدیم سنگی کتبہ ہے۔
ابتدائی اسلامی تاریخ کے حوالے سے اس نایاب دریافت پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ حیران رہ گئے ہیں۔ سنگی کتبے پر حجازی رسم الخط (جو قدیم ترین عربی رسم الخط ہے) میں یہ عبارت درج ہے:
’اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں مددگار ہے‘
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف حضرت عمر فاروقؓ کی مذہبی و تاریخی اہمیت کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ اس سے ابتدائی اسلامی دور کی تحریری اور ثقافتی روایات کو سمجھنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ سروے تین علاقوں السویریقیہ، المویہیہ اور حضہ میں کیا گیا جہاں 156 نئے مقامات کی نشاندہی ہوئی۔ دریافت شدہ اشیاء کی تفصیل درج ذیل ہے:
- اسلامی و ثمودی کتبے: 461 اسلامی کتبے اور 34 ثمودی کتبے ملے۔
- چٹانی نقوش: چٹانوں پر بنے 1259 مختلف نقوش اور عربی شاعری کی تحریریں برآمد ہوئیں۔
- تعمیراتی ڈھانچے: 11 پتھریلے ڈھانچے، 3 تاریخی محلات اور 4 قدیم کنویں دریافت ہوئے۔
- قافلوں کے راستے: قدیم تجارتی اور زیارتی قافلوں کے 2 تاریخی راستوں کا بھی سراغ ملا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، ہیریٹیج کمیشن ان تمام دریافتوں کا تفصیلی سائنسی اور تاریخی جائزہ لے رہا ہے تاکہ ان کی درست عمر اور پس منظر کا تعین کیا جا سکے۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت بھر میں قدیم اسلامی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے منصوبے جاری رہیں گے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنی عظیم تاریخ سے جڑی رہ سکیں۔

