اسلام آباد: ملکی معیشت کے لیے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایک انتہائی شاندار اور تاریخی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مئی 2026ء کے دوران وطن بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مد میں 4 ارب 30 کروڑ (4.3 ارب) امریکی ڈالر موصول ہوئے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ایک ماہ کے دوران موصول ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق، مئی 2026ء میں ترسیلاتِ زر میں ماہ بہ ماہ بنیادوں پر 20.2 فیصد جبکہ گزشتہ سال مئی کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جولائی سے مئی (مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ) کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38 ارب 10 کروڑ (38.1 ارب) ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 34.9 ارب ڈالر رہا تھا۔ خرم شہزاد نے قوی امید ظاہر کی ہے کہ جون کا مہینہ شامل ہونے کے بعد مالی سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر کی تاریخی حد کو چھو لے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق، مئی 2026ء کے دوران بھی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا رہا:
- سعودی عرب: 1 ارب 25 ملین (1.25 ارب) ڈالر۔
- متحدہ عرب امارات: 1 ارب 6.6 ملین (1.06 ارب) ڈالر۔
- برطانیہ: 645.5 ملین ڈالر۔
- امریکہ: 349.8 ملین ڈالر پاکستان بھیجے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ رقوم بھیجنے پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تہنیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ مئی کے مہینے میں ماہانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد کا اضافہ نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کا ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد اور ان کی مثبت شراکت داری ہمارا حقیقی قومی سرمایہ ہے، جس کے لیے پوری قوم ان کی شکر گزار ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے ڈالر کی اس ریکارڈ آمد کے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) اور روپے کی قدر پر انتہائی مثبت اور مستحکم اثرات مرتب ہوں گے۔
