"مذاکرات جنگ بندی کے لیے ہیں، جوہری پروگرام پر نہیں”؛ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک کی تفصیلات جاری کر دیں
تہران: اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں ایک بڑی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک بنیادی فریم ورک پر پہنچ گئے ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات کے بیشتر موضوعات پر اہم اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حتمی معاہدہ بالکل قریب ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا کو اہم تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) بنیادی طور پر تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جنگ کے خاتمے اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس فریم ورک کو حتمی شکل دے دی گئی، تو اس کے بعد جوہری معاملے سمیت مفاہمتی یادداشت کی مزید باریک بینانہ تفصیلات اور دیگر تزویراتی موضوعات پر اگلے 60 دن کے اندر تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ فی الحال اس مرحلے پر جوہری پروگرام زیرِ بحث نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کھلے عام اعتراف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والی یہ تمام تر سفارتی پیش رفت پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی مخلصانہ ثالثی اور مسلسل رابطوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم، انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ فی الحال پاکستان میں کوئی ایرانی وفد بھیجنے یا کسی باضابطہ دورے کا فوری منصوبہ زیرِ غور ہے۔
اسٹریٹجک اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس گزرگاہ کا انتظام ساحلی ممالک کا قانونی دائرہ اختیار ہے۔ معاہدے کے بدلے میں ایران وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ آمد و رفت اور تحفظ فراہم کرے گا۔
انہوں نے ٹول ٹیکس کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کوئی بحری ٹول ٹیکس عائد نہیں کر رہا، البتہ وہاں فراہم کی جانے والی بین الاقوامی خدمات کی قیمت یعنی سروس فیس (Service Charges) لینا ایک معمول کی بات ہے، اسے ٹول ٹیکس کا نام نہیں دیا جانا چاہیے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اسرائیل اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور ایران کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات اس امن عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس بات کی کوئی قطعی ضمانت نہیں کہ امریکہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا، لیکن ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کی پروا کیے بغیر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آزادانہ حکمتِ عملی پر کاربند ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

