ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام اپارٹمنٹ مالکان کی بے دخلی تاحکمِ ثانی روک دی گئی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے معروف ترین منصوبے ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ کے اپارٹمنٹ مالکان کو ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے سی ڈی اے (CDA) کو تاحکمِ ثانی انہیں بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے کیس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کی کارکردگی اور غفلت پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے سب لیز ہولڈرز (اپارٹمنٹ مالکان) کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔

یہ اپیلیں سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر مالکان کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں سنگل بینچ کے فیصلے کے پیراگراف 30 کو چیلنج کرتے ہوئے ‘تھرڈ پارٹی رائٹس’ کے تحفظ کی استدعا کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران جب جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا اس بلڈنگ کو مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ (Completion Certificate) جاری ہوا تھا؟ تو سی ڈی اے کے وکیل کاشف علی ملک نے جواب دیا کہ ابھی تک بلڈنگ کی تکمیل کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اس پر جسٹس اعظم خان نے سی ڈی اے کی غفلت پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بلڈنگ کو مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ ہی نہیں ملا تھا اور رہائشیوں نے وہاں رہنا شروع کر دیا، تو کیا اس وقت سی ڈی اے سو رہا تھا؟

جسٹس انعام امین منہاس نے سوال اٹھایا کہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا تو کیا ان مالکان کے حقوق کو دیکھا گیا تھا؟ انہوں نے سی ڈی اے وکیل سے پوچھا کہ جو لوگ اس بلڈنگ میں داخل ہوئے، آپ نے ان کو کیوں تسلیم (Recognise) کیا؟

اپیل کنندگان کے وکلاء سردار تیمور اسلم اور علی رضا ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے اس سے قبل مالکان کے حقوق تسلیم کر کے 15 سے 18 فیصد لیز کی رقم بھی وصول کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا رکھی ہے جس کی سفارشات کابینہ سے منظور ہو کر سی ڈی اے بورڈ میں جانی ہیں۔ وکیل نے شکوہ کیا کہ سی ڈی اے بورڈ کی میٹنگ ابھی ہونی ہے، تو "کیا یہ چاہتے ہیں کہ عید کے دنوں میں شہریوں سے زبردستی قبضہ لینا ہے؟”

دوسری جانب سی ڈی اے کے وکیل کاشف علی ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون کا کیس ہے اور یہ اپیلیں قابلِ سماعت ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین سی ڈی اے بیرون ملک سے کل ہی واپس آئے ہیں، تاہم جواب جمع کرا دیا گیا ہے۔

دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسٹے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخلی سے روکنے کا حکم جاری کیا اور سی ڈی اے کو تاحکمِ ثانی کسی بھی قسم کی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت کر دی۔