بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع غیر قانونی قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع، طلاق اور گھریلو تنازعات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دوررس اثرات کا حامل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر اسے خلع نہیں دی جا سکتی اور عدالتیں کسی بھی زبردستی کے مردہ رشتے کو بحال رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔

یہ تاریخی فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے جاری کیا۔ بینچ کے رکن جسٹس شاہد بلال حسن کا تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ سوات کی رہائشی مسمات سیلاب اختر کی جانب سے شوہر قوت خان کے خلاف دائر کردہ ایک مقدمے کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی بیوی نے شوہر کے ظلم (Cruelty) کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا کیس دائر کیا ہو، تو عدالتیں اسے زبردستی خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ایسا کرنے سے بیوی کے مالی اور قانونی حقوق (جیسے حق مہر کی واپسی وغیرہ) شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے فیملی کورٹس کو پابند کیا ہے کہ وہ خاتون کو یہ اختیار دیں کہ وہ یا تو اپنا ظلم کا دعویٰ جاری رکھے یا پھر اپنے مالی حقوق سے دستبردار ہو کر خلع قبول کرے۔

سپریم کورٹ نے ملک میں گھریلو تشدد کے تصور کو مزید وسعت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ گھریلو تشدد کا مطلب صرف جسمانی مار پیٹ نہیں ہے، بلکہ اس میں ذہنی اذیت، معاشرتی و جذباتی تذلیل، مسلسل نظر انداز کرنا، معاشی و نفسیاتی دباؤ اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی شامل ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیرِ نظر کیس میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی اور محض چند دن بعد 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر ہو گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ظلم قلیل مدت میں بھی ہو سکتا ہے اور ہر کیس کا فیصلہ اس کے اپنے مخصوص حقائق پر منحصر ہوتا ہے۔

ماتحت عدالتوں کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ فیملی کورٹس سول مقدمات میں فوجداری معیارِ ثبوت یعنی "شک سے بالاتر” (Beyond Reasonable Doubt) لاگو کرنے سے سختی سے گریز کریں۔

گھریلو جھگڑوں میں ناممکن ثبوتوں جیسے کہ عینی شاہدین یا پولیس ایف آئی آر (FIR) کا تقاضا کرنا قانوناً غلط ہے۔ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار صرف "غالب امکان” (Preponderance of Probability) پر مبنی ہونا چاہیے، جہاں حالات، رویوں اور حقائق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے خلع کے فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اس کیس کو نمٹائے، بیوی کا حتمی بیان ریکارڈ کرے اور اگر وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہے تو اسی بنیاد پر، اور اگر خلع کا انتخاب کرے تو قانونی شرائط کے مطابق فیصلہ کرے۔