واشنگٹن: دنیا بھر کی نظریں اس وقت مشرقِ وسطیٰ پر لگی ہیں جہاں دہائیوں پر محیط امریکہ اور ایران کی کشیدگی ایک تاریخی امن معاہدے میں تبدیل ہونے کے قریب ہے۔
امریکی میڈیا کے بڑے اداروں بشمول واشنگٹن ٹائمز، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹس میں متفقہ طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ناممکن کو ممکن بنانے میں سب سے بڑا اور کلیدی مصالحت کار (Chief Mediator) کا کردار ادا کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو "اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ سفارتکاری” قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان نے خطے کو ایک ہولناک جنگ سے بچانے کے لیے انتہائی مؤثر بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لیا۔
رپورٹ کے مطابق، فیلڈ مارشل نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد سازی کی فضا بحال کرنے کے لیے مسلسل رابطے رکھے جس کے نتیجے میں فریقین امن معاہدے کے مسودے پر متفق ہوئے۔
واشنگٹن ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی صبح معاہدے کے مسودے (Draft) پر فریقین کے درمیان اتفاق ہو گیا تھا۔ یہ پیش رفت عین اس وقت ہوئی جب فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں موجود تھے۔ اخبار کے مطابق، اب اس تاریخی معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں یعنی اتوار کی دوپہر تک متوقع ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ پاکستان سے ایک اہم شخصیت ایران کا دورہ کر رہی ہے جو امن عمل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کی تکمیل کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جہاں وہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر کے رہنماؤں سے کانفرنس کال پر رابطہ کر کے معاہدے کی حتمی تفصیلات شیئر کریں گے۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ خلیجی ممالک کو بھی اس امن عمل میں شامل کر کے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوششوں سے ہی معاہدے کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جا سکی، جس سے عالمی منڈیوں اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

