تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بڑا اور واضح بیان دیا ہے کہ ایران دنیا کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے مکمل تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا اور نہ ہی تہران خطے میں کسی قسم کی بدامنی یا جنگ کا خواہاں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ‘ (IRIB) کے ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں جنگ اور عدم تحفظ کا اصل سبب ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کو مطمئن کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ہمارا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اصل مسئلہ اسرائیل کی صیہونی حکومت ہے جو ہر موقعے کو جنگ کی آگ بھڑکانے اور عدم استحکام برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت، خودمختاری اور وقار پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت صرف توانائی کی پیداوار، طبی تحقیق اور سائنسی ترقی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے پُرpeaceful (پرامن) استعمال کا قانونی حق رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے یاد دہانی کرائی کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی سے متعلق شہید لیڈر اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا تاریخی فتویٰ موجود ہے، جس کے بعد ملکی پالیسی اس معاملے پر بالکل واضح اور فیصلہ کن ہے کہ ایران تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بنے گا۔
عالمی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ اہم بیان ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات 14 نکات پر مشتمل حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس ممکنہ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی اور جنگ کے بادل چھٹنے کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی وفد کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دو روز قبل ایران کا ایک انتہائی اہم اور حساس دورہ کیا تھا، جس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلانات میں کہا گیا تھا کہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر معمولی اور حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین جنگ بندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

