پاکستان جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے تاریخی دور کی میزبانی کرے گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا اور انتہائی اہم دور جلد پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تیز ترین سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو انتہائی تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ یہ رابطہ غیر معمولی، نہایت مفید اور نتیجہ خیز رہا ہے۔ اس اہم گفتگو نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے اور خطے میں پائیدار امن لانے کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے اس اہم ٹیلیفونک رابطے میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔
وزیرِ اعظم نے پورے سفارتی عمل کے دوران فیلڈ مارشل کے کلیدی کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے حصول کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک اور مخلصانہ کوششیں انتہائی قابلِ قدر اور تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ اہم ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین زیادہ تر معاملات طے پا چکے ہیں اور ایک بڑی ڈیل کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح انتہائی خلوص اور ایمانداری کے ساتھ ان عالمی امن کوششوں کا حصہ بنا رہے گا اور مسلم امہ سمیت دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے اپنا مثبت سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس امر پر مکمل اتفاق پایا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے تاکہ مستقل استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

