کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین پر خوفناک دھماکا؛ 3 ایف سی جوانوں سمیت 14 افراد شہید، درجنوں زخمی

کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ایک خوفناک اور زوردار دھماکے کے نتیجے میں 3 فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج پورے شہر میں سنی گئی، جس سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پھاٹک کے قریب کھڑی 10 سے زائد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

ریلوے حکام کے مطابق، کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین جیسے ہی چمن پھاٹک کے قریب پہنچی، تو ٹریک پر پہلے سے موجود ایک مشکوک گاڑی کے پاس زوردار دھماکا ہو گیا۔ دھماکے کی زد میں آنے کے باعث ٹرین کا انجن تباہ ہو گیا اور اس کی تین بوگیاں (کوچز) پٹڑی سے اتر گئیں۔

عید کی چھٹیاں منانے اپنے گھروں کو لوٹنے والے مسافروں سے بھری پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو بھی واقعے کے فوراً بعد کوئٹہ اسٹیشن پر روک لیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کے عملے نے قابو پایا۔

سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ریلوے کی ریلیف ٹرین بھی جائے وقوعہ پر پہنچا دی گئی ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق، خواتین اور بچوں سمیت 20 سے زائد شدید زخمیوں کو فوری طور پر سول سنڈیمن اسپتال اور ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا ہے۔

معاونِ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان شاہد رند اور معاونِ خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 14 شہادتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جان بوجھ کر عوامی مقامات اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، جو ان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ امن دشمن عناصر کی یہ بزدلانہ کارروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔”

واقعے کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو نہ بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے۔ شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، حکومت دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس حملے کو "فتنۂ ہندوستان” کی درندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں چن چن کر انجام تک پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر اس دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان ناپاک عزائم کے باوجود پاکستان ریلوے کا آپریشنل نظام بلا تعطل جاری رہے گا۔