"ہمیں اب قرض نہیں، ٹیکنالوجی اور مشترکہ ترقی چاہیے”؛ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی کمپنیوں کو کراچی اکنامک زون میں سرمایہ کاری کی دعوت

ہانگژو: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران معاشی اور تکنیکی محاذ پر پاکستان کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

چین کے جدید شہر ہانگژو میں منعقدہ "پاکستان-چین آئی سی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن اور زرعی بی ٹو بی (Business-to-Business) انویسٹمنٹ کانفرنس” میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین زراعت، آئی ٹی، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دورۂ ہانگژو کے دوران عالمی سطح کے مایہ ناز ای کامرس پلیٹ فارم ’علی بابا‘ کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں ادارے کے ایگزیکٹو چیئرمین جوسائی (Joe Tsai) نے ان کا استقبال کیا۔

وزیرِ اعظم کی موجودگی میں حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان طویل مدتی تعاون کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس موقع پر ایگزیکٹو چیئرمین جوسائی نے خطے میں امن کی کوششوں اور امریکہ-ایران جنگ بندی سے متعلق پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کی بھرپور تعریف کی۔

وزیرِ اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں اور اس لازوال دوستی کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ علی بابا کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کی گورننس اور کاروبار میں مزید شفافیت آئے گی۔ ایف بی آر (FBR) کی مکمل ڈیجیٹائزیشن اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ہانگژو بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس، جس میں 463 چینی اور 200 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب پاکستان کو قرضے یا امداد نہیں بلکہ چینی سرمایہ کاری، جدید مہارت اور مشترکہ ترقی درکار ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کریں اور وہاں تیار مصنوعات عالمی منڈیوں میں برآمد کریں۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا ’خصوصی اقتصادی زون‘ (Special Economic Zone) قائم کیا جا رہا ہے، جہاں چینی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی لیز پر زمین، ون ونڈو آپریشن اور ‘ریڈ کارپٹ’ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

کانفرنس کے دوران ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی اور پاکستان کے فوجی فرٹیلائزر (FFC) کے مابین کھاد کی پیداوار سے متعلق 1.12 ارب ڈالر کے بھاری معاہدے پر دستخط ہوئے اور آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آر آئی سی کے مابین ایگرو کیمیکل، مشینی کاشتکاری اور ملتان میں ریجنل آفس کے قیام کے لیے 10 کروڑ ڈالر کا معاہدہ بھی طے پایا۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ چین سالانہ 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ اگر پاکستان جدید زرعی طریقے اور معیاری بیج اپنائے، تو آئندہ 5 سے 7 سال میں چین کو 10 ارب ڈالر تک کی زرعی مصنوعات برآمد کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیرِ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ (CPEC 2.0) اب صرف سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ "ڈیجیٹل سلک روٹ” کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں فائبر آپٹک، مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز، ای کامرس اور آئی ٹی کا فروغ شامل ہے۔

کانفرنس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور دونوں ممالک کے چوٹی کے بزنس لیڈرز نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ صدر شی جن پنگ کے وژن کے تحت ان اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنا کر پاکستان کو چین کے ہم قدم بنایا جائے گا۔