پیکا ایکٹ 2025 جابرانہ سیاہ قانون ہے، ترامیم مسترد؛ اسلام آباد نیشنل جرنلسٹس کنونشن کا مشترکہ اعلامیہ جاری، صحافیوں کے خلاف مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان بھر کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغنوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ تاریخی "نیشنل جرنلسٹس کنونشن” کے اختتام پر ایک گرینڈ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں پیکا ایکٹ 2025 (PECA Act 2025) کی متنازع ترامیم کو ایک جابرانہ اور سیاہ قانون قرار دیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں کی جانے والی حالیہ ترامیم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 (جو ہر شہری کو آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے) کے سراسر منافی ہیں۔
کنونشن کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافت کا گلا گھونٹنے کے لیے بنائے گئے تمام تر قوانین پر فوری نظرثانی کی جائے اور میڈیا کو آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے۔
اعلامیے میں صحافیوں کے خلاف جاری عدالتی ہراسانی، بلاجواز مقدمات، اور بیرونِ ملک سفر پر غیر قانونی پابندیوں (ای سی ایل اور اسٹاپ لسٹ) کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ صحافتی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے پریس کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ عملی طور پر جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ آج میڈیا ورکرز کو بدترین معاشی دباؤ، نوکریوں سے برطرفیوں اور ریاستی جبر کا سامنا ہے۔
نیشنل جرنلسٹس کنونشن نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں صحافیوں پر قائم تمام جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا ہاؤسز میں کام کرنے والے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس، گریجویٹی اور ای او بی آئی (EOBI) جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
کنونشن میں میڈیا ملازمین کی تنخواہوں کے دیرینہ معاملے پر بھی آواز اٹھائی گئی۔ شرکاء نے آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے فوری اور مکمل نفاذ اور ستمبر میں نویں ویج بورڈ کے قیام کے عمل کا آغاز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کم تنخواہ والے ملازمین کو معاشی تحفظ نہیں ملے گا، تب تک آزاد صحافت کا خواب ادھورا رہے گا۔
صحافتی تنظیموں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ہوش کے ناخن لے گی اور میڈیا ورکرز کے زیرِ التوا معاشی و قانونی معاملات کو فوری حل کر کے پریس کی آزادی کا بھرم قائم رکھے گی۔

