بنوں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن؛ فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عبداللہ افغانی 11 ساتھیوں سمیت ہلاک، دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام

بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک مشترکہ اور انتہائی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) اور سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، تھانہ میریان کی حدود میں علی الصبح شروع کیے گئے اس آپریشن میں فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر عبداللہ افغانی سمیت 11 سے 15 دہشت گرد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے جدید ڈرون سرویلنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ ڈرون ٹیم کی بروقت کارروائی میں خوارج کے ایک ماہر سنائپر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کی براہ راست نگرانی ایس پی رورل بنوں نے کی، جبکہ سی ٹی ڈی کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر موجود رہے۔

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کا خطرناک کمانڈر عبداللہ افغانی بھی شامل ہے، جو پولیس پر حملوں اور سنگین دہشت گردانہ کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ حکام کے مطابق عبداللہ افغانی نے حال ہی میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سیکیورٹی اداروں کو دھمکیاں بھی دی تھیں۔

دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک ریٹائرڈ ایف سی اہلکار نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

آپریشن کے دوران میرانشاہ روڈ پر آزاد منڈی کے قریب سے 10 کلو گرام وزنی دیسی ساختہ بم (IED) برآمد ہوا جسے ماہرین نے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ آئی ای ڈی آج ہونے والی "روڈ اوپننگ ڈیوٹی” کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا گیا تھا، جسے پولیس کی مستعدی نے ناکام بنا دیا۔

آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کامیاب آپریشن پر بنوں پولیس اور سی ٹی ڈی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افسران و اہلکاروں کے لیے خصوصی انعامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ خیبر پختونخوا پولیس دشمن کے ہر وار کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہے۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔