فیلڈ مارشل کا دورہ ایران رنگ لے آیا؛ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل امن معاہدہ طے پا گیا، آئندہ 24 گھنٹوں میں تاریخی اعلان متوقع

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہولناک کشیدگی اور جنگ کے باضابطہ خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔

امریکی و عالمی میڈیا نے باخبر سفارتی ذرائع کے حوالے سے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تمام محاذوں پر جاری لڑائی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی "امن معاہدے” کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کا باضابطہ اور دنیا کے سامنے مشترکہ اعلان اتوار کی دوپہر تک متوقع ہے۔

امریکی اخبارات ‘دی واشنگٹن ٹائمز’ اور ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی خصوصی رپورٹس کے مطابق، ہفتے کی صبح مذاکرات کاروں کے درمیان امن معاہدے کے حتمی مسودے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔

اس انتہائی خفیہ اور حساس ترین مذاکراتی عمل میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (J.D. Vance)، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے بااثر داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) شامل ہیں۔

ان تمام اعلیٰ ترین مذاکرات کاروں نے مجوزہ مسودے پر دستخط کر کے اسے حتمی منظوری کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی سپریم لیڈر کی سربراہی میں دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت کو ارسال کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور ایران نے مل کر ایک نظرثانی شدہ مسودہ تیار کر کے امریکہ کو بھیج دیا ہے۔ اس نئے مسودے میں سب سے اہم پیشرفت آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی شق کا شامل ہونا ہے۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں اپنی ہنگامی ملاقاتوں کے دوران اس شق پر ایرانی قیادت کو آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب اس مسودے پر اتوار کو واشنگٹن کا حتمی جواب متوقع ہے۔

برطانوی معاشی جریدے ‘فنانشنل ٹائمز’ نے اس ڈیل کے خدوخال واضح کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ فروری کے آخری ہفتے سے جاری اس جنگ میں اب عارضی جنگ بندی کو اگلے 60 روز کے لیے مستقل سیز فائر میں تبدیل کیا جائے گا اور امن کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

مجوزہ ڈیل کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی میں مرحلہ وار نرمی کرے گا، ایران پر عائد پابندیاں بتدریج ختم ہوں گی اور بیرونِ ملک منجمد اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے بھی تہران کو واپس کیے جائیں گے۔

اس تاریخی پیشرفت کی تصدیق خود امریکی قیادت کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔ ‘سی بی ایس’ (CBS) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے تصدیق کی کہ "ثالث کار امریکہ اور ایران میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں”۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اُمید ظاہر کی کہ ایران اتوار تک اس امن معاہدے کو مکمل قبول کر لے گا، جس کے لیے پاکستان کا ثالثی کردار واقعی تعریف کے قابل رہا ہے۔

اگر اتوار کی دوپہر یہ اعلان کامیابی سے ہو جاتا ہے، تو یہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت اور خطے میں پاکستانی سفارت کاری کی سب سے بڑی تاریخی کامیابی تصور کی جائے گی۔