ٹرمپ کابینہ اجلاس: ایلون مسک اور وزراء میں سخت اختلافات، ٹرمپ کی مسک کو لال جھنڈی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اجلاس میں ایلون مسک اور دیگر وزراء کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق، ایلون مسک، جو ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ ہیں، نے وفاقی محکموں میں عملے کی کمی پر زور دیا، جس پر وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر وزراء نے اعتراض کیا۔ روبیو نے موقف اختیار کیا کہ پہلے ہی 1500 ملازمین ریٹائر کیے جا چکے ہیں اور مزید کٹوتیاں غیر ضروری ہوں گی۔

بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب مسک نے روبیو پر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اصلاحات میں سست روی کا الزام عائد کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے دونوں فریقین کو مسئلے کے حل کے لیے مزید مشاورت کی ہدایت کی۔

اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "مارکو روبیو اور ایلون مسک دونوں ہی بہترین کام کر رہے ہیں اور میں دونوں کی کوششوں کو سراہتا ہوں”۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اصلاحات ضروری ہیں، اصلاحات ضروری ہیں، اصلاحات ضروری ہیں، مگر فیصلہ سازی کا حتمی اختیار کابینہ کے وزراء کے پاس ہوگا، نہ کہ ایلون مسک کے پاس۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے مسک کے تجویز کردہ اقدامات پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب تمام کابینہ وزراء خود اپنے محکموں کے ملازمین کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے مسک کی تجاویز پر غور کرنے کے لیے ہر دو ہفتے بعد خصوصی اجلاس بلانے کا بھی اعلان کیا، تاکہ حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے متوازن حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم کلہاڑی کے بجائے نشتر کا استعمال کریں گے، تاکہ حکومت کو مؤثر بنایا جا سکے”۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایک طرف مسک کے جارحانہ اصلاحاتی اقدامات ہیں اور دوسری طرف کابینہ وزراء کے احتیاطی نقطہ نظر۔

واضح رہے کہ یہ اختلافات امریکی انتظامیہ میں جاری پالیسی تنازعات کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر سرکاری اخراجات اور بیوروکریسی میں اصلاحات کے حوالے سے۔