ایران میں رجیم چینج تک موساد کا مشن جاری رہے گا، اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا ہے کہ ایران میں موساد کا مشن اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک وہاں موجودہ نظام یا ‘رجیم’ تبدیل نہیں ہو جاتی۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ہولوکاسٹ کی ایک یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موساد چیف نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ایران جنگ کے دوران ان کی ایجنسی نے تہران کے قلب میں گہرائی تک کام کیا اور اسرائیلی فضائیہ کو ایسی درست اور حساس انٹیلی جنس فراہم کی جس کی بنیاد پر ایران کی اہم میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈیوڈ برنیا کا کہنا تھا کہ موساد کے ایجنٹس کی فراہم کردہ معلومات نے ان خطرناک اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جو اسرائیل کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے ایک وجودی خطرہ بن سکتے تھے۔

ڈیوڈ برنیا نے واضح کیا کہ موساد کی یہ کارروائیاں کوئی عارضی مشن نہیں تھیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی اور منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد تہران میں حملوں کے بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ہمارا کام ختم ہو جائے گا؛ موساد کی ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی "انتہا پسند حکومت” کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

موساد سربراہ کے مطابق، ایران میں نظام کی تبدیلی ان کا حتمی مشن ہے اور اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔

مبصرین کے مطابق موساد چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔

ڈیوڈ برنیا کے اس دعوے نے کہ موساد تہران کے اندر آپریشنل صلاحیت رکھتی ہے، خطے میں انٹیلی جنس جنگ کے ایک نئے اور خطرناک رخ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل سفارتی کوششوں کے باوجود ایران کے خلاف اپنی خفیہ مہم کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

موساد سربراہ نے اس عزم کو دہرایا کہ وہ تہران میں جاری کارروائیوں کے اثرات کو برقرار رکھیں گے تاکہ اسرائیل کو درپیش کسی بھی مستقبل کے خطرے کا قبل از وقت سدِ باب کیا جا سکے۔