کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر دہشتگردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 7 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق منگل کے روز پولیس ٹیم ایک زیر حراست ملزم کو لے جا رہی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کر دیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی واحد محمود سمیت 5 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہوئے جبکہ 4 اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق دوران علاج مزید 2 اہلکار دم توڑ گئے، یوں شہداء کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔ زخمی اہلکاروں اور ایک شہری کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دہشتگردوں نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہے اور اس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

