وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور خصوصاً بینائی کے معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ علاج کے سلسلے میں حکومت مسلسل اپوزیشن قیادت سے رابطے میں رہی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت علاج کے معاملے پر آن بورڈ ہوتی تھی مگر علیمہ خان اکثر اس عمل کو ویٹو کر دیتی تھیں کیونکہ اس سے معاملہ ٹھنڈا پڑنے کا خدشہ تھا۔
ان کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے معروف آئی اسپیشلسٹ کا نام مانگا اور بہترین سرکاری و نجی ڈاکٹروں کے ذریعے طبی معائنہ کرایا جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کو بھی ڈاکٹرز سے بریفنگ لینے کی دعوت دی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ڈاکٹروں نے علاج کو تسلی بخش قرار دیا اور اگر مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی تو حکومت تیار تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو آئین و قانون کے تحت طبی سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسی اصول کے تحت عمران خان کو بھی سہولیات فراہم کی گئیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر نے اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور احتجاج و سڑکوں کی بندش کے ذریعے عوام کو مشکلات میں ڈالا، جبکہ حکومت عدالت کے احکامات کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

