بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے بعد پانچ رکنی میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی بینائی میں بہتری آئی ہے اور تجویز کردہ علاج مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
پی ٹی وی کے پروگرام ’’نقطہ اعتراض‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان شازیہ خان نے کہا کہ یہ حیران کن امر ہے کہ جس شخص کی بینائی ایک روز قبل 85 فیصد تک متاثر ہونے کا کہا جا رہا تھا، وہ دو روز کے علاج کے بعد گھڑی کی سوئیاں واضح دیکھنے کے قابل ہو گیا، اور یہ بات ان کی اپنی جماعت کے عہدیدار بیان کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سڑکیں بند کر کے احتجاج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اس سے خیبرپختونخوا کے عوام، جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، مزید پریشان ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صحت سے متعلق غیر مصدقہ باتیں عوام کو مشتعل کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شوکت خانم اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف بانی پی ٹی آئی کی صحت کو تسلی بخش قرار دے چکے ہیں اور ان کی میڈیکل بورڈ سے تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما قاضی احمد اکبر نے موقف اختیار کیا کہ بانی کی صحت پر سیاست کرنے کا تاثر غلط ہے۔ ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ جب اکتوبر سے بینائی میں کمی کی شکایات سامنے آ رہی تھیں تو بروقت اور مناسب علاج کیوں فراہم نہیں کیا گیا اور معاملہ معمولی ادویات تک کیوں محدود رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق کسی قیدی کی طبی حالت بگڑنے پر فوری علاج اس کا بنیادی حق ہے، اور یہاں ایک سابق وزیر اعظم کی بات ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اس لیے کیا گیا کیونکہ ذاتی معالجین کو رسائی فراہم نہیں کی گئی، اگر یہ ملاقات کرا دی جاتی تو تشویش کم ہو سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان مسلسل صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں مگر ان دعوؤں کو مسترد کیا جاتا رہا، اور اگر پہلے توجہ دی جاتی تو صورتحال یہاں تک نہ پہنچتی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری پرویز سندھیلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے اور انہیں حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ علاج سے بینائی میں بہتری آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ذاتی معالجین کو پینل میں شامل رکھا گیا اور اہل خانہ کو بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر عمل میں شریک رہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دیگر قیدیوں کی طرح سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور رپورٹ میں تمام امور واضح درج ہیں۔
ان کے مطابق بڑھتی عمر میں معمولی طبی مسائل عام ہوتے ہیں اور بینائی میں بہتری مثبت پیش رفت ہے۔

