خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کے لیے سب سے زیادہ کوششیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیں۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ محسن نقوی نے معاملہ حل کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور وہ واحد شخصیت ہیں جو فیلڈ مارشل کے سامنے بات کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے سلسلے میں محسن نقوی نے اعلیٰ سطح پر رابطے بھی کیے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے مسائل موجود ہیں اور کئی معاملات میں ذمہ داریوں کا تعین واضح نہیں، جبکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ دھرنوں کے ذریعے رہائی ممکن نہیں۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے مطالبے پر اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا احتجاجی دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک پارٹی عہدیداروں اور ذاتی معالج کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، احتجاج جاری رکھا جائے گا جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

