اپوزیشن کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور مکمل طبی علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں قائدین نے طے کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی اور اس سلسلے میں قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سینیٹرز کو شرکت کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ پرامن احتجاج کل سے شروع ہوگا اور مطالبات دھرنے میں پیش کیے جائیں گے، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا اور کسی ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے پارلیمانی اراکین کو بھی دھرنے میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات سے متعلق رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ کے مطابق انہوں نے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کرانے سمیت کسی ماہر ڈاکٹر سے طبی جانچ اور قید تنہائی کے باعث کتابوں کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ چند ماہ قبل تک ان کی بینائی معمول کے مطابق تھی تاہم مسلسل دھندلاہٹ کی شکایات کے باوجود مؤثر اقدامات نہ ہونے سے حالت بگڑ گئی اور بعد ازاں آنکھ میں خون کے لوتھڑے کے باعث نقصان پہنچا، علاج کے باوجود بینائی محدود رہ گئی۔