اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکا کے دورے کے دوران غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا۔
ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
بریفنگ میں سکیورٹی اور علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی سے متعلق شواہد عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیے جا چکے ہیں اور پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی 1267 پابندی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر آزادانہ نقل و حرکت حاصل ہے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں اس کی معاونت کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ شمالی افغانستان میں آئی ایس کے پی کی سرگرمیوں اور بعض دیگر گروہوں کے درمیان تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
بھارت سے متعلق معاملات پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے نئے ڈیم کی تعمیر کی تفصیلات طلب کی ہیں اور بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند قرار دیا ہے، جبکہ ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کی سماعت میں پاکستان کی قانونی ٹیم نے شرکت کی اور بھارت پر بھی اس میں شرکت لازم قرار دی گئی۔
انہوں نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
خارجہ تعلقات کے حوالے سے بتایا گیا کہ ازبکستان اور قازقستان کے صدور کے حالیہ دوروں میں تجارت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، ازبکستان کے ساتھ تجارت کو دو ارب ڈالر اور قازقستان کے ساتھ ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا جبکہ آذربائیجان اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط بھی جاری رہے۔
ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کرکٹ کے حوالے سے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے اور بھارت کی جانب سے کھیل کو ہتھیار بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی کی کشیدگی میں امریکی امن کردار کو سراہا گیا اور مستقبل میں کسی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

