اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں شہید ہونے والے شہری عون عباس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے مالی امداد کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے امام بارگاہ کا دورہ کیا، انتظامیہ اور شہدا کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں اور اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس واقعے کے ذریعے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی جسے عوام کے اتحاد نے ناکام بنا دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترلائی دھماکہ ایک افسوسناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم سوگوار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور قوم افواج پاکستان کی قربانیوں کی مقروض ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
شہباز شریف نے عون عباس کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی اعلیٰ درجے کی مثال ہے، اسی لیے حکومت کی جانب سے ان کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیگر شہدا کے لواحقین کو فی کس پچاس لاکھ روپے، زخمیوں کو تیس لاکھ روپے جبکہ معمولی زخمیوں کو دس لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ واقعے میں شہید ہونے والوں کے بچوں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی اور عون عباس کو 14 اگست کے موقع پر اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا جائے گا۔

