فضائی مشق گولڈن ایگل: پاک فضائیہ کی جدید جنگی صلاحیتوں اور آپریشنل تیاری کا مظاہرہ

پاک فضائیہ نے سدرن ایئر کمانڈ کے دائرہ اختیار میں فضائی مشق “گولڈن ایگل” کا کامیابی سے انعقاد کیا جس میں جدید فضائی جنگی صلاحیتوں، آپریشنل ہم آہنگی اور جنگی تیاری کا جامع مظاہرہ کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مشق کے دوران پاک فضائیہ کی مکمل جنگی استعداد کو منظم انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے جدید حربی ماحول میں کارروائیوں کی مشق کی گئی، جس سے ادارے کی عملی مہارت اور تیاری کی سطح واضح ہوئی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ مشق کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی نیٹ ورک سینٹرک تربیتی نظام کے ذریعے آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور مقامی طور پر تیار کردہ جدید اسمارٹ ٹیکنالوجیز کو یکجا پلیٹ فارم پر استعمال کرنا تھا۔ بدلتی ہوئی علاقائی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مشق کو “ٹو فورس کنسٹرکٹ” کے تحت ترتیب دیا گیا جس میں مربوط فضائی دفاعی نظام کے ماحول میں جنگی منظرنامے تشکیل دے کر ان پر عمل درآمد کیا گیا۔

بیان کے مطابق حربی مرحلے میں فرسٹ شوٹ، فرسٹ کل صلاحیت کے حامل سنگل رول لڑاکا طیارے استعمال کیے گئے جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز اور توسیع شدہ رینج کے ایئر ٹو گراؤنڈ اسٹینڈ آف ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ان کارروائیوں کو ایئر ٹو ایئر ریفیولرز اور ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز جیسے فورس ملٹی پلائرز کی مکمل معاونت حاصل رہی، جس کے ذریعے فرضی دشمن کے اہم مراکز کو درستگی سے نشانہ بنانے کی مشق کی گئی۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سائبر، خلا اور الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم آپریشنز کے باہمی امتزاج کے ساتھ ساتھ “مینڈ اَن مینڈ ٹیمِنگ” اس مشق کی نمایاں خصوصیت رہی، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کو جنگی ماحول میں مؤثر انداز میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیکسٹ جنریشن آل ڈومین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تحت متحد کمانڈ کے ذریعے جدید فضائی جنگی تصورات کی عملی توثیق کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان آپریشنز سے پیچیدہ جنگی حالات میں تیز رفتار اور مربوط کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت کی تصدیق ہوئی جبکہ مشق کی کامیاب تکمیل پاک فضائیہ کے اس عزم کا ثبوت ہے کہ وہ ہمہ وقت اعلیٰ درجے کی جنگی تیاری برقرار رکھنے، مقامی جدت سے فائدہ اٹھانے اور موجودہ و مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔