سپریم کورٹ نے عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے بانی تحریک انصاف عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیے بغیر ایسا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس دوران پی ٹی آئی رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت سے اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات کو پہلے عبور کرنا ہوگا اور یہ بھی مدنظر رکھا جائے کہ متعلقہ مقدمات دیگر عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، لہٰذا نوٹس جاری کیے بغیر ملاقات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ زیرِ بحث معاملہ بظاہر غیر مؤثر ہو چکا ہے کیونکہ درخواست 24 اگست 2023 کے حکم نامے کے خلاف دائر کی گئی تھی، تاہم اس پہلو کا مزید جائزہ لیا جائے گا کہ آیا کیس قابلِ سماعت رہتا ہے یا نہیں۔

بعدازاں، عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ روز تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا، جبکہ 9 مئی لاہور واقعات سے متعلق ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی تین رکنی بینچ بنانے کی ہدایت کی گئی اور ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

مزید برآں القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دی گئی، جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی اسی بنیاد پر نمٹا دی گئیں۔

عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ملاقات کی اجازت کا معاملہ تاحال زیر غور ہے اور آئندہ سماعت میں حکومتی مؤقف سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔