بانی پی ٹی آئی کی خواہش پر پمز لے جایا گیا: اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا پروسیجر اڈیالا جیل اسپتال میں بھی ہوسکتا تھا تاہم عمران خان کی اپنی خواہش پر انہیں پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج کامیابی سے مکمل ہوا۔

سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری میں انجیکشن لگتا ہے، آپریشن نہیں ہوتا، اور اس پروسیجر کے بعد کسی قسم کی مزید پیچیدگی نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اگر مستقبل میں بھی کسی طبی سہولت کی ضرورت پیش آئی تو وہ فراہم کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بیماری سے ان کے اہل خانہ کو آگاہ نہ کرنا جرم ہے اور بطور شہری اور قیدی انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے چیک کروایا جائے۔

سینیٹر علی ظفر نے بھی پمز اسپتال کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی تک دو ماہر ڈاکٹروں کو رسائی دی جائے اور سینیٹ پمز اسپتال کو مکمل میڈیکل رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کرے۔

جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ اگر امن و امان کا مسئلہ ہو تو انہیں شام کے وقت پمز لے جایا جائے، یہ تمام تفصیلات پمز کے ای ڈی پہلے ہی پریس کانفرنس میں بیان کر چکے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شخص کو حقوق دیتا ہے اور حکومت انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتی ہے، وزیراعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو علاج یا ڈاکٹروں تک رسائی نہ دی جائے، بلکہ سیکرٹری ہیلتھ کو ہدایت دی گئی کہ پمز انتظامیہ کے ساتھ مل کر معاملے پر شفاف بریفنگ دی جائے۔

وزیر قانون نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو گرفتاری کے دوران جیل ڈاکٹر تک رسائی بھی نہیں دی گئی تھی، تاہم موجودہ حکومت ایسے طرز عمل پر یقین نہیں رکھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے قیدی کی ہدایت کے مطابق علاج کرایا، پروسیجر کامیاب رہا اور بانی پی ٹی آئی کو مزید کسی طبی مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔