اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور انہیں ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کسی علاقے میں دہشت گردوں کی کوئی رِٹ نہیں، ریاست کسی کو تشدد کی اجازت نہیں دے گی اور دہشت گردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں محرومیوں کا بیانیہ بے بنیاد ہے، جعفر ایکسپریس میں مزدوروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، بے گناہوں کا قتل کسی بیانیے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا تو انہوں نے بغاوت کا راستہ اپنایا، ماضی میں بلوچ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں مگر حالیہ کارروائیوں میں مارے گئے 177 جرائم پیشہ افراد کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی، اسمگلرز، جرائم پیشہ عناصر اور بعض سیاسی مفادات کا گٹھ جوڑ بن چکا تھا۔
وزیر دفاع کے مطابق دہشت گردوں کے پاس جدید اور مہنگا امریکی اسلحہ ہے، ایک رائفل کی قیمت 20 لاکھ روپے تک ہے، ان کے پیچھے بھارت ہے، بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز موجود ہیں، کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا جبکہ دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے جہاں سے انہیں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کی بڑی وجہ تیل اسمگلنگ کا رکنا ہے، ایران سے 40 روپے فی لیٹر تیل لا کر کراچی میں 200 روپے میں بیچا جاتا تھا، اسمگلرز روزانہ 4 ارب روپے منافع کماتے تھے، جب یہ نیٹ ورک روکا گیا تو امن و امان خراب کیا گیا، بی ایل اے اسمگلرز کو تحفظ دینے والی چوروں کی آرمی ہے، فساد میں ملوث عناصر سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ بلوچستان پاکستان کا 40 فیصد رقبہ ہے، اتنے بڑے علاقے کے لیے بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز درکار ہیں، گزشتہ 12 ماہ میں 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے، حالیہ دو روز میں 177 دہشت گرد ہلاک جبکہ 16 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے ترقیاتی حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آج 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں، 15 ہزار 96 اسکول، 13 کیڈٹ کالجز اور 13 بڑے اسپتال ہیں، این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے، صوبے میں سب سے زیادہ ایئرپورٹس ہیں جنہیں مرحلہ وار آپریشنل کیا جا رہا ہے، سرداری نظام نے وسائل لوٹے اور کرپشن نے ترقی روکی۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر پاک فوج کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا، خواتین، بچوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والوں سے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

