نیویارک: سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین نے اقوام متحدہ میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل آف ایکسپرٹس کی مدت میں ستمبر 2027ء تک توسیع سے متعلق امریکی قرارداد کا مسودہ ویٹو کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکی مسودے کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ روس اور چین نے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی میعاد 18 اکتوبر 2025ء کو ختم ہو چکی ہے، اس لیے مغربی ممالک کی جانب سے ‘اسنیپ بیک میکانزم’ کے تحت پرانی پابندیاں بحال کرنے کا اقدام اور اس کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔
روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے زور دیا کہ ایران کے جوہری معاملے کا حل سیاسی و سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے، جبکہ چین نے بھی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی پر ستمبر 2025ء میں اسنیپ بیک مکمل ہونے کے بعد پابندیاں دوبارہ نافذ ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ ارکان کے عدم اتفاق کے باعث پابندیوں کی نگرانی کرنے والا یہ پینل گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر غیر فعال تھا۔

