جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس کے پاس یہ ماننے کے لیے معقول شواہد موجود ہیں کہ رواں برس فروری میں ایران کے ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے دو حملوں کا ذمہ دار امریکا تھا اور یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
’انٹرنیشنل انڈیپیڈنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن آن ایران‘ کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایران کے شہر میناب کے ‘شجرہ طیبہ پرائمری اسکول’ پر ٹام ہاک میزائل سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 120 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ اسکول ایک واضح شہری عمارت تھی اور اس کے فوجی استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
دوسری جانب صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں 22 شہری جاں بحق و زخمی ہوئے، جسے مشن نے غیر امتیازی حملہ قرار دیتے ہوئے جنگی جرم گردانا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے بھی ملک گیر احتجاج کے دوران مظاہرین پر مہلک کریک ڈاؤن کے ذریعے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ اقوام متحدہ کے مشن نے امریکا اور ایران دونوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری روکنے اور متاثرین کو ازالہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

