این سی سی آئی اے کا محمد رضوان سے 5 صفحات پر مشتمل سوالنامہ، محمد رضوان کا جواب سامنے آگیا

لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو آن لائن جوئے کی انکوائری کے سلسلے میں جاری کیا گیا 5 صفحات پر مشتمل سوالنامہ سامنے آ گیا ہے، جسے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا۔

این سی سی آئی اے کے سوالنامے میں محمد رضوان سے گزشتہ 10 سال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور 5 سال کے دوران آمدن، تنخواہ، کرائے، زرعی و کاروباری منافع، بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور قرضوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ان سے 5 سال کے گھریلو و تعلیمی اخراجات، وراثتی جائیداد اور اس کے ثبوت، اندرون و بیرون ملک سفر اور قیام کے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف محمد رضوان کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور وکیل کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی۔

محمد رضوان نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ 8 ستمبر کو موصول ہونے والے نوٹس میں ان پر لگے الزامات یا آن لائن جوئے سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کی کرپشن کی انکوائری آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کا دائرہ اختیار ہے، لہذا اگر کوئی الزام ہے تو مکمل تفصیلات کے ساتھ معاملہ آئی سی سی کے متعلقہ فورم کو بھیجا جائے۔