وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کا بیانیہ مکمل فراڈ ہے اور پاکستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لاپتہ افراد کالعدم بی ایل اے کے ارکان ہیں، جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔
خواجہ آصف کے مطابق جب دہشتگرد مارے جاتے ہیں تو ان کے نام مسنگ پرسنز کی فہرست میں نکل آتے ہیں، جبکہ ان کے لواحقین باقاعدہ الاؤنس بھی وصول کر رہے ہوتے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کر رہی ہیں، حالیہ حملوں میں دو مقامات پر خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار دہشتگردوں کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے اور بی ایل اے ایک فارن فنڈڈ دہشتگرد تنظیم ہے جس کے نیٹ ورک دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے بھارت اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو فرنچائز کے طور پر استعمال کرنا بند کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے سریاب روڈ، دالبندین ایف سی ہیڈکوارٹر اور نوشکی سمیت 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے دہشتگرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے اور آپریشن تاحال جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر بیانیہ بناتے ہیں، جبکہ ان کے بیشتر سہولتکار بیرون ملک مقیم ہیں۔
وزیر دفاع نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مکمل اتفاق اور واضح مؤقف اپنایا جائے، کیونکہ اس جنگ میں تمام صوبوں کے بچے اور بچیاں قربانیاں دے رہے ہیں۔

