سی پی ایس پی کی مبینہ نااہلی: برطانوی ہسپتال کا پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ معاہدہ ختم، 700 ڈاکٹرز کا مستقبل خطرے میں
پاکستان کے طبی حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کی انتظامی نااہلی اور برطانیہ کے یونیورسٹی ہاسپٹل برمنگھم (UHB) کے ساتھ تربیتی معاہدے کی منسوخی کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ اس بحران نے سینکڑوں نوجوان ڈاکٹروں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
اے بی این اور اوصاف سے وابستہ معروف صحافی و تجزیہ کار ندیم چوہدری کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم کے سب سے بڑے ادارے ‘کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان’ (CPSP) کو ان دنوں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے ادارے پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی انتظامی کمزوریوں اور عالمی معیارات کو سمجھنے میں ناکامی کی وجہ سے پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے بین الاقوامی روزگار اور تربیت کے دروازے بند ہو رہے ہیں۔
اس اچانک فیصلے سے تقریباً 700 پاکستانی ڈاکٹروں کا کیریئر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے
حالیہ تنازع کی بنیاد یونیورسٹی ہاسپٹل برمنگھم (UHB) کے ساتھ بین الاقوامی ٹریننگ فیلو (ITF) پروگرام کا خاتمہ ہے۔ یہ پروگرام پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے برطانیہ میں تربیت حاصل کرنے کا ایک سنہری موقع تھا، جسے سی پی ایس پی کی "مجرمانہ غفلت” قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، عالمی آڈٹ فرم KPMG کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد برمنگھم ہسپتال نے سی پی ایس پی کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ آڈٹ میں معاہدے کی قانونی حیثیت، ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور ڈاکٹروں کے وظائف (Stipends) کی ادائیگی میں شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس اچانک فیصلے سے تقریباً 700 پاکستانی ڈاکٹروں کا کیریئر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
پاکستان میں ڈاکٹروں کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ایسے میں ‘برین ڈرین’ کا بہانہ بنا کر ڈاکٹروں کو باہر جانے سے روکنا یا انہیں بین الاقوامی سطح پر تحفظ نہ دینا ناانصافی ہے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پی ایس پی کی قیادت عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے پاکستان کو ‘ریڈ لسٹ’ مطلب ایسے ممالک جہاں سے ڈاکٹروں کی بھرتی پر پابندی ہو سکتی ہے میں شامل رکھنا بھی ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ایسے میں ‘برین ڈرین’ کا بہانہ بنا کر ڈاکٹروں کو باہر جانے سے روکنا یا انہیں بین الاقوامی سطح پر تحفظ نہ دینا ناانصافی ہے۔
سی پی ایس پی کے صدر اور اعلیٰ قیادت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ادارے کی ڈگری کو امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ میں براہ راست ‘کنسلٹنٹ’ کے طور پر تسلیم کروانے میں ناکام رہے ہیں
ملک کی مختلف طبی تنظیموں اور سینئر ڈاکٹروں نے سی پی ایس پی کے صدر اور اعلیٰ قیادت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سی پی ایس پی قیادت کا طرزِ عمل اور بین الاقوامی رسائی کے طریقے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔
ادارہ FCPS کی ڈگری کو امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ میں براہ راست ‘کنسلٹنٹ’ کے طور پر تسلیم کروانے میں ناکام رہا ہے۔ برمنگھم کے معاملے پر سی پی ایس پی کو برطانوی عدالتوں میں آڈٹ رپورٹ کو چیلنج کرنا چاہیے تھا، لیکن خاموشی اختیار کی گئی۔
اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں تو خدشہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹروں کی ڈگریاں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت کھو دیں گی
اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں تو خدشہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹروں کی ڈگریاں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت کھو دیں گی۔ ماہرین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور سی پی ایس پی کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔

