اسرائیل کو جوابی کارروائی کا خوف، نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست

واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے ایران کی جانب سے ممکنہ شدید جوابی کارروائی کے خدشات سے آگاہ کیا اور خبردار کیا کہ امریکا کی براہِ راست فوجی کارروائی اسرائیل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

اسی روز صدر ٹرمپ نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جسے مبصرین نے اس بات کا اشارہ قرار دیا کہ امریکا فوری حملے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

تاہم نیو یارک ٹائمز کے مطابق، صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ایسے مبہم اشارے دے چکے ہیں جبکہ عملی طور پر حملے کے قریب پہنچ چکے تھے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا اور حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج کے معاملے پر آگے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔

دوسری جانب، برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے باعث صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی رابطے کر کے یہ مؤقف اپنایا کہ تہران کو اپنے طرزِعمل میں بہتری دکھانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی خطے کو ایک ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑی کر سکتی ہے، اسی لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔