بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، فوج اور عوام میں تفرقہ ناقابلِ قبول: کور کمانڈرز کانفرنس
پاک فوج نے دہشت گردی، جرائم اور سیاسی مفادات کے درمیان کسی بھی قسم کے گٹھ جوڑ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی سرپرستی یافتہ تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کے ساتھ فیصلہ کن اور بغیر کسی رعایت کے نمٹا جائے گا، جبکہ مسلح افواج اور عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 273ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
فورم نے مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور مسلح افواج کی غیر متزلزل جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہا۔
کانفرنس میں اندرونی و بیرونی سلامتی کی صورتحال، درپیش خطرات اور آپریشنل تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت اور پاک فوج کی مشترکہ کوششوں اور عوام کی ثابت قدم حمایت کے باعث پاکستان بتدریج مگر یقینی طور پر استحکام، وسیع تر مواقع اور عزت و وقار کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فورم نے واضح کیا کہ قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے ایسے عناصر سیاسی ہوں یا کوئی اور۔
کانفرنس نے بلوچستان حکومت کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے دیگر علاقوں میں بھی قومی ایکشن پلان کے مطابق عوامی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، جو سماجی روابط اور بہتر گورننس کے ذریعے دہشت گردی کے محرکات کا خاتمہ کریں۔
شرکا نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی اور فلسطینی ریاست کے لیے قابلِ اعتماد راستے کا مطالبہ کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس، جدت طرازی اور میدانِ جنگ میں اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور کنونشنل، سب کنونشنل، ہائبرڈ اور غیر متناسب چیلنجز سے نمٹنے کی پاک فوج کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

