ریاست کے سوا جہاد کا حکم کوئی نہیں دے سکتا، افغان طالبان دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم یا فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔

اسلام آباد میں 10 دسمبر 2025 کو منعقدہ قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افراد افغانی ہیں، لہٰذا افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا، ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کے درمیان گہرا تعلق اور مماثلت ہے کیونکہ دونوں کا قیام کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر رمضان المبارک میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ربِ کائنات نے ریاستِ طیبہ کو خادم الحرمین اور پاکستان کو محافظ الحرمین کا کردار عطا کیا، اور آپریشن بنیان المرصوص میں اللہ کی مدد کو آتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا۔

خطاب میں انہوں نے دہشتگردی، قومی سلامتی، جنگی تیاریوں، علم و قلم کی طاقت اور عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے کردار پر تفصیل سے بات کی اور کہا کہ جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث کو ترک کیا وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاک فوج قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔