بھارتی فلم دھرندھر کے جواب میں پاکستان کی فلم ’میرا لیاری‘ کی تیاری مکمل، جنوری کے پہلے ہفتے عالمی ریلیز کا اعلان
بھارتی فلم دھرندھر میں پاکستان اور بالخصوص لیاری کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے جواب میں پاکستان میں ’میرا لیاری‘ کے نام سے فلم تیار کرلی گئی ہے، جس کی تیاری میں سندھ حکومت نے معاونت فراہم کی ہے۔
فلم کو جنوری کے پہلے ہفتے میں ریلیز کیا جائے گا اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بھارتی فلم دھرندھر پاکستان کے خلاف سازش اور منفی پروپیگنڈے کی ایک کڑی ہے، جس میں جان بوجھ کر لیاری کو تشدد سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری تشدد نہیں بلکہ ثقافت، امن، صلاحیت اور حوصلے کی علامت ہے، اور ’میرا لیاری‘ لیاری کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لائے گی، جہاں امن، خوشحالی اور فخر کی جھلک دکھائی جائے گی۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست ہوچکی ہے اور وہ فلموں کے ذریعے ہار کو جیت میں تبدیل نہیں کرسکتا۔
Indian movie Dhurandhar is yet another example of negative propaganda by the Indian film industry against Pakistan, especially targeting Lyari. Lyari is not violence—it is culture, peace, talent, and resilience. Next month Mera Lyari will release, showing the true face of Lyari:… pic.twitter.com/v2FsVMfWsB
— Sharjeel Inam Memon (@sharjeelinam) December 13, 2025
دوسری جانب سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے فلم دھرندھر میں اپنے شوہر کے کردار کی منفی عکاسی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فلم سازوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلم میں پاکستان مخالف بیانیہ شامل کیا گیا ہے، لیاری کو بلاوجہ ہدف بنایا گیا اور رحمان ڈکیت کے کردار کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا، جبکہ چوہدری اسلم نے اپنی زندگی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں وقف کی۔
نورین اسلم نے واضح کیا کہ اگر شہید افسر کے کردار کو غلط تناظر میں پیش کیا گیا تو وہ عالمی قوانین کے تحت فلم کے ڈائریکٹرز اور اسکرین رائٹرز کے خلاف کارروائی کریں گی۔

