پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات: 853 ارب کے حسابات، افسران کے اثاثوں اور ٹیکس اہداف پر بریفنگ

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے کے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے پہلے روز ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ نے عالمی ادارے کو مالی و انتظامی اصلاحات، ٹیکس اہداف اور سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے فریم ورک پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ سول سرونٹس ایکٹ میں دفعہ 15 اے شامل کر دی گئی ہے، جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے وفاقی سرکاری افسران 30 اکتوبر 2026ء تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے الیکٹرانک طور پر جمع کرانے کے پابند ہوں گے، اور 31 دسمبر 2026ء تک ان کے اثاثوں کی محدود تفصیلات عمومی معلومات کے لیے ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں، پاکستان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے بجٹ حسابات میں سامنے آنے والے 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق (جس میں 448 ارب وفاق اور 266 ارب پنجاب کا حصہ ہے) کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

مذاکرات میں پنجاب اور سندھ سے زرعی انکم ٹیکس کی کم وصولیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی کے لیے 3 ہزار 53 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی پیدا شدہ کشیدہ صورتحال اور عالمی معاشی اثرات کے تناظر میں 15 ہزار 263 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا حصول مشروط قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اب تک 47 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت نمایاں اضافہ ہے۔