اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، طرزِ حکمرانی اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر آئین کے آرٹیکل 233 اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے مختلف آئینی اور قانونی آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت طلال چوہدری سمیت دیگر اہم ذمہ داران نے شرکت کی۔
وزیر داخلہ نے ملک بھر اور بالخصوص کے پی میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ پسِ پردہ اور بیک ڈور رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سیاسی عزائم کو آگے بڑھا رہی ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اداروں کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف خیبرپختونخوا کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے، جس کے لیے وہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کر کے آئینی اقدامات کو حتمی شکل دیں گے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے وفاق کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں، لہٰذا گورنر راج کی دھمکیوں کے باوجود 4 اکتوبر کا پرامن لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔

