دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ، یو اے ای پھر سرفہرست

رواں سال 2025 کے لیے آرٹن کیپیٹل نے عالمی پاسپورٹ انڈیکس جاری کیا ہے جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے مسلسل ساتویں مرتبہ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اماراتی پاسپورٹ رکھنے والے شہری دنیا کے 179 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کر سکتے ہیں، جو اسے عالمی سطح پر سب سے زیادہ سفری سہولت فراہم کرنے والی دستاویز بناتا ہے۔

آرٹن کیپیٹل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب کئی بڑے ممالک کے پاسپورٹس کی طاقت میں کمی آئی، یو اے ای نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، معاشی استحکام، مؤثر سفارتی حکمت عملی اور عالمی روابط کی بدولت اپنی برتری برقرار رکھی۔ کورونا کے بعد سخت عالمی امیگریشن پالیسیوں اور نئے سفری قوانین کے باوجود اماراتی پاسپورٹ کی طاقت متاثر نہیں ہوئی۔

درجہ بندی میں سنگاپور نے حیران کن ترقی کرتے ہوئے 30ویں سے دوسرے نمبر پر جگہ بنائی، جہاں وہ اسپین کے ساتھ مشترکہ طور پر کھڑا ہے۔ دونوں ملکوں کے شہری 175 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جرمنی، سویڈن، فرانس، اٹلی، جنوبی کوریا، فن لینڈ، جاپان اور دیگر ممالک مشترکہ طور پر موجود ہیں جنہیں 174 ممالک میں ویزا فری سہولت دستیاب ہے۔

چوتھے نمبر پر پولینڈ، سلوانیہ، کروشیا، سلواکیہ، ہنگری اور ایسٹونیا شامل ہیں جبکہ پانچویں نمبر پر مالٹا، رومانیہ، لٹویا، نیوزی لینڈ، بلغاریہ اور چیک ریپبلک موجود ہیں۔

کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں افغانستان سب سے آخر یعنی 94ویں نمبر پر ہے۔ اس کے بعد شام، عراق اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ پاکستان اور صومالیہ مشترکہ طور پر 91 ویں پوزیشن پر موجود ہیں، جبکہ پاکستانی پاسپورٹ پر صرف 45 ممالک میں ویزا فری سفر ممکن ہے۔ اس کے برعکس یمن، اریٹیریا، شمالی کوریا، بنگلا دیش اور فلسطین پاکستان سے بہتر پوزیشن پر کھڑے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2025 الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے تیزی سے پھیلتے نظام کا سال ثابت ہوا۔ اسرائیل، برطانیہ، ترکمانستان، مالدیپ اور سوئٹزرلینڈ نے باقاعدہ ETA سسٹم متعارف کرایا جبکہ کینیڈا نے قطری شہریوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرکے انہیں براہِ راست ETA سہولت دے دی۔ اندازہ ہے کہ 2026 میں مزید 25 ممالک ETA نظام اپنائیں گے، جبکہ یورپی یونین کا ETIAS سسٹم بھی جلد نافذ ہونے والا ہے۔