امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو سخت معاشی اقدامات کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں بھارتی چاول کی درآمد ایک خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس سے مقامی کسان شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ واشنگٹن میں زرعی مسائل سے متعلق تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنی زرعی صنعت کے تحفظ کے لیے نئے ٹیرف عائد کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
تقریب کے دوران، امریکی کسانوں کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے بھارت سمیت ایشیائی ممالک سے آنے والے سستے چاول کو ڈمپنگ قرار دیا اور کہا کہ یہ رجحان فوری طور پر رُکنا چاہیے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’یہ ٹھیک نہیں ہے کہ بھارت سے آنے والے چاولوں سے امریکا بھر جائے اور ہمارے کسان نقصان میں رہ جائیں۔‘‘
صدر ٹرمپ نے اسی موقع پر وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا کہ بھارت کو ’’امریکا میں چاول ڈمپ کرنے‘‘ کی اجازت کیوں ہے، کیا انہیں اس پر کوئی چھوٹ حاصل ہے؟ وزیر خزانہ نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی چاولوں پر ٹیکس موجود ہے مگر وہ ’’بہت کم‘‘ ہے، اور اس معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر کینیڈا سے آنے والی کھاد پر بھی اضافی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اقدامات کا مقصد امریکی زرعی پیداوار کو محفوظ بنانا اور مقامی کسانوں کی سپورٹ کرنا ہے۔
امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات گزشتہ چند ماہ سے کشیدہ ہیں۔ قبل ازیں بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل مکمل نہ کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ 50 فیصد ٹیرف عائد کرچکی ہے۔ امریکی کسان بھی طویل عرصے سے شکایت کرتے آرہے ہیں کہ سستے درآمدی چاول نے ان کی پیداوار اور قیمتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

