ٹوکیو: جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں شدت 7.6 کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد جاپان موسمیاتی ایجنسی نے شمالی ساحلی علاقوں کے لیے 10 فٹ بلند سونامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ سونامی Aomori سے Iwate تک کے بندرگاہی علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔
زلزلے کا مرکز آوموری کے مشرقی ساحل پر تھا اور زمین کے اندر اس کی گہرائی تقریباً 50 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے فوراً بعد مقامی حکام نے ریڈ الرٹ جاری کر کے ساحلی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایٹمی تنصیبات اور صنعتی مراکز میں ممکنہ خرابیوں کی جانچ جاری ہے۔
جاپان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ ممالک میں شامل ہے۔ سنہ 2011 میں توہوکو کے مقام پر 9.0 شدت کے زلزلے اور سونامی نے 18 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنے، جبکہ فُکوشیما نیوکلیئر حادثہ بھی اس زلزلے کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔ اسی طرح 1995 میں کوبے اور 2004 میں نیگاٹا میں بھی شدید زلزلے ریکارڈ ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق، زلزلے زمین کی تہہ میں موجود پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ جب زمین کے اندر جمع شدہ توانائی اچانک خارج ہوتی ہے تو زلزلے کی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو دائرے کی شکل میں چاروں طرف پھیلتی ہیں۔ شمال مشرقی جاپان میں یہ زلزلہ ایک ماہ میں دوسرا بڑا زلزلہ ہے، گزشتہ ماہ اسی خطے میں شدت 6.7 کا زلزلہ آیا تھا جس کے بعد سونامی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی۔
چین اور انڈونیشیا میں بھی حالیہ دنوں میں زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں، تاہم سونامی کی وارننگ صرف جاپان میں جاری کی گئی، جو کہ اس خطے کی ٹیکٹونک سرگرمیوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار کسی علاقے میں بڑا زلزلہ آ جائے تو مستقبل میں بھی ممکنہ طور پر دوبارہ بڑا زلزلہ آنے کا خطرہ رہتا ہے۔

